ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل تمام پارٹیوں کی انتخابی مہم میں شدت

لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل تمام پارٹیوں کی انتخابی مہم میں شدت

Thu, 30 May 2024 11:51:32    S.O. News Service

نئی دہلی، 30/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) لوک سبھا کیلئے ۶؍ مرحلوں کے  انتخابات مکمل ہوچکے ہیں جبکہ ساتویں اورآخری مرحلے کیلئے یکم جون کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق۳۰؍ مئی کو شام میں انتخابی تشہیر کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس سے قبل کہ انتخابی ریلیوں کا سلسلہ موقوف ہو، سیاسی جماعتوں نے رائے دہندگان تک اپنی بات پہنچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے۔  بدھ کو وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال سے ادیشہ تک کئی ریلیاں کیں اور اپنی سرکار کیلئے عوام سے حمایت کی اپیل کی۔   پرینکا گاندھی کا  ہماچل پردیش میںبدھ کو لگاتار تیسرا دن تھا۔ انہوں نے منڈی لوک سبھا حلقے سے اپنی پارٹی کے امیدوار وکرمادتیہ سنگھ کیلئے کئی ریلیوں سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے مودی حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے پنجاب کے شہر پٹیالہ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے جالندھر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور اپنی اپنی پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے اپیل کی۔ اسی امیت شاہ نے یوپی میں اور یوگی آدتیہ ناتھ نے بہار  میں انتخابی ریلیاں کیں اور  اپنی باتوں سے رائے دہندگان کو پولرائز کرنے کی کوشش کی۔

 وزیراعظم نے مغربی بنگال میں ہندو مسلم کیا تو ادیشہ میں دوسری جماعتوں کے لیڈروں کو جیل بھیجنے کی گارنٹی دی۔   انہوں نے ’کاک دیپ‘ علاقے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں میں دراندازی کی وجہ سے آبادی کا ڈیمو گراف تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مقامی نوجوانوں کیلئے مواقع چھین رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ مودی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ریاست میں ترنمول کانگریس کی حکومت جھوٹے ذات کے سرٹیفکیٹ جاری کرکے مسلمانوں کو او بی سی کے حقوق دے رہی ہے۔ مودی ادیشہ پہنچے تو باری پاڑہ، ریمونا اور کیندر پاڑا میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ادیشہ میں کانگریس اور بیجو جنتا دل کے دور حکومت میں ہونے والے بدعنوانی کے تمام معاملات کی جانچ کی جائے گی اور ریاست کو لوٹنے والوں کو سزا دی جائے گی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ `مودی کی گارنٹی ہے۔مودی نے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کی گزشتہ ایک سال سے بگڑتی صحت کے پیچھے فریب دہی اور ’بڑی سازش‘ کا شبہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’  ریاست میں جب  ۱۰؍ جون کو بی جے پی کی حکومت بنے گی، تو وہ نوین جی کی صحت کے بارے میں جانچ کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بنائے گی اور یہ پتہ لگائے گی کہ ان کی طبیعت اچانک کیسے خراب ہوگئی۔‘‘

 کلو اور منڈی میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی ہماچل پردیش کو اپنا ’دوسرا گھر‘ کہتے ہیں، لیکن جب ریاست پر آفت آئی تو وہ ایک بار بھی ریاست نہیں آئے اورمرکز کی طرف سے آفت زدہ لوگوں کو کیلئے ایک پیسہ تک نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی صرف انتخابات کے وقت دورے کرتے ہیں اور ووٹ لینے کے بعد پھر وہاں پلٹ کر نہیں جاتے۔

 کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پنجاب کے شہر لدھیانہ میں ایک ریلی سے خطاب کیا اوررائے دہندگان سے اپنے امیدوار کی کامیابی کی اپیل کی۔ اس موقع پرانہوں نے عوام کو ایک بار پھر یقین دلایا کہ انڈیا اتحاد کی حکومت بنتے ہی اگنی ویر اسکیم کو ختم کردیا جائے گا۔  بدھ کے دن کیجریوال بھی پنجاب ہی میں رہے اور اپنے امیدواروں کیلئے ووٹ مانگے۔

  بی جے پی کے دوبڑے لیڈر امیت شاہ اور یوگی ملک کی دو بڑی ریاستوں میں سرگرم رہے۔ امیت شاہ نے دیوریا اور مہاراج گنج میں ریلیاں کیں تو یوگی نے کشی نگر اور گورکھپور کے ساتھ ہی  پٹنہ کے عوام سے بھی اپیل کی۔ان ریلیوں نے امیت شاہ نے پاکستان کا حوالہ دیا تو یوگی نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد کے لوگ کامیاب ہوئےتو ملک میں طالبان کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ مہاراج گنج میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ کانگریس کے لیڈران پاکستان کے ایٹم بم سے ڈرتے تھے لیکن ہم نے پاکستان کو اس کے گھر میں گھس کر مارا اور ملک میں پایا جانےوالا خوف نکال دیا۔ اسی طرح یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی پولرائزیشن کا کھیل کھیلا۔ پٹنہ کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ انڈیا اتحاد کے لوگ ملک میں طالبان کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو لالٹین کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ اندھیرے ہی میں برا کام ممکن ہوسکے گا۔ لوگوں کو ان سے ہوشیار رہنا چاہئے۔‘‘


Share: